Shayari is the art of human life

Shayari is the art of human life. It is a beautiful part and play an important role in human life. Shayari is used to tell your feelings and emotions to others. Describing  your thoughts and feelings through urdu poetry can impress your beloved one’s.

A Best collection of Shayari

Here is a best collection of Shayari given below

چلو تحریر کرتے ہیں

چلو تحریر کرتے ہیں
وفا کیسے نبھانی ہے ؟؟؟
کریں پھر دستخط
اُس پر
پھرے جو قول سے اپنے
سزا اُس کو ملے رب سے
اُسے پھر سے محبت ہو

مجھے بھی ” ترک محبت ” پہ حیرتیں ہی رہیں

مجھے بھی ” ترک محبت ” پہ حیرتیں ہی رہیں

جو کام میرا نہیں تھا، وہ ” کام ” میں نے کیا

آسماں پیار کی پونجی جو ادا کرتا ہے

آسماں پیار کی پونجی جو ادا کرتا ہے
ڈھلتا سورج بھی اُسی حق میں دعا کرتاہے

تجھ کو لاتا ہے سرِشام خیالوں میں مرے
ہجر کا چاند بھی اس جاں کا بھلا کرتا ہے

روگ ہستی کے چھپانے سے کہاں چھپتے ہیں
درد بڑھ جائے تو آنکھوں سے بہا کرتا ہے

یار کو قبلہ کیا عشق عبادت جانا
دل بڑے ڈھب سے نمازوں کو ادا کرتا ہے

کورچشمی تو ذرا دیکھ جہاں زادے کی
عشقِ پامال پہ رنگوں کی ردا کرتا ہے

دل بہاروں سے مزیّن ہے مگر پھر بھی حفیظ
تیری خوشبو میں بہرحال بسا کرتا ہے

 

سکون و ضبط کی سب کوششیں بیکار جاتی ہیں

سکون و ضبط کی سب کوششیں بیکار جاتی ہیں
نظر آتے ہو اک پل کو تو پہروں دل دھڑکتا ہے

وفا ہو کر، جفا ہو کر، حیا ہو کر، ادا ہو کر

وفا ہو کر، جفا ہو کر، حیا ہو کر، ادا ہو کر
سماۓ وہ میرے دل میں نہیں معلوم کیا ہو کر

میرا کہنا یہی هے تو نہ رخصت ہو خفا ہو کر
اب آگے تیری مرضی، جو بهی تیرا مدعا ہو، کر

نہ وہ محفل، نہ وہ ساقی، نہ وہ ساگر، نہ وہ بادہ
ہماری زندگی اب رہ گئی هے بے مزہ ہو کر

معاذاللہ! یہ عالم بتوں کی خود نمائی کا
کہ جیسے چها ہی جائیں گے خدائی پر، خدا ہو کر

بہر صورت وہ دل والوں سے دل کو چهین لیتے ہیں
مچل کر، مسکرا کر، روٹھ کر، تن کر، خفا ہو کر

نہ چهوڑو ساتھ میرا ہجر کے شب ڈوبتے تارو
نہ پهیرو مجھ سے یوں آنکهیں، مرے غم آشنا ہو کر

انهیں پهر کون جانچے، کون تولے گا نگاہوں میں
اگر کانٹے رہے گلشن میں پهولوں سے جدا ہو کر

مرے دل نے حسینوں سے مزے لوٹے محبت کے
کبهی اس پر فدا ہو کر، کبهی اس پر فدا ہو کر

جہاں سے وہ ہمیں ہلکی سی اک آواز دیتے ہیں
وہاں ہم جا پہنچتے ہیں محبت میں ہوا ہو کر

سنبهالیں اپنے دل کو ہم کہ روئیں اپنی قسمت کو
چلے ہیں اے نصیر زار، وہ ہم سے خفا ہو کر

بڑی آرزو تھی

بڑی آرزو تھی اس کو
بے نقاب دیکھنے کی

دوپٹہ جو سرکا تو
کمبخت زلفیں دیوار بن گئیں

کاش اے کاش ہم ٹھہر سکتے

کاش اے کاش ہم ٹھر سکتے

یہ ستارے یہ شبنمی آنسو
نہ لٹاؤ یہ قیمتی آنسو
کل بھی آنسو تھے آج بھی آنسو
ہو گئی اپنی زندگی آنسو

تھی یہ حسرت کہ زخم بھر سکتے
کاش اے کاش ہم ٹھر سکتے

جانِ جاناں یہ نازینیں گیسو
نکہت افشاں و سُنبلیں گیسو
ہائے آشوب آفریں گیسو
یہ پریشان عنبریں گیسو

والے حسرت کہ یہ سنور سکتے
کاش اے کاش ہم ٹھر سکتے

ہم کو خود سے گزر ہی جانا تھا
یوں ہر اک زخم بھر ہی جانا تھا
جو تھا کرنا وہ کر ہی جانا تھا
ایسے عالم میں مر ہی جانا تھا

شرم آتی ہے کاش مر سکتے
کاش اے کاش ہم ٹھر سکتے

کیا کریں کوئی اختیار نہیں
اپنا گھر ہم کو ساز گار نہیں
اب کسی شے کا انتظار نہیں
وقت کا کوئی اعتبار نہیں

وقت کا اعتبار کر سکتے
کاش اے کاش ہم ٹھر سکتے

دل کے حق میں زرا نہیں ہے وقت
بے گماں مقتلِ یقیں ہے وقت
ہر نَفس قہر آفریں ہے وقت
ایک دریا آتشیں ہے وقت

کاش ہم اس کے پار اتر سکتے
کاش اے کاش ہم ٹھر سکتے

جون ایلیاء

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *